![]() |
Iqbal ka shaheen |
اقبال کا شاہین |
Education of Urdu click here اقبال کی شاعری جاس اور شک سے پاک ہے وہ نہ خود مایوس ہوتا ہے نہ دوسروں کو مایوس ہونے دیتا ہے وہ مجوس ہونے والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے وہ تنبیہ کے چند لفظ کہہ کر ٹکراتا ہوا گزر جاتا ہے اس کو اپنے پیام کی قبولیت اور اپنے ایمان کی استواری پر کامل یقین ہے یہی یقین اس کے پیغام کو طاقت پرواز بخشتا ہے اقبال کو جمال سے زیادہ جلال پسند ہے اس کی جدت ترازی نے جہاں اردو اور فارسی زبانوں کو نتنائے موضوعات فراہم کیے وہیں پر منفرد اور خوبصورت نائی نائی تمثیلات بھی فراہم کی ہیں کوئی تشبیہ کوئی استارہ کوئی اشارہ کوئی کنایہ باقی نہیں جس کے اندر اقبال نے اپنا پیام نہ رکھ دیا ہو پھول کی پنکھڑی میں کانٹے میں میں دریا کی روانی میں صحرا کے بگولوں میں پہاڑ کی بلندی میں شہباز کی پرواز میں ساقی کے ساگر میں ہوا میں اسمان میں
اونچہ من در بزم شوق اوردہ ام دانی کہ چیست
یک چمن گل یک نیستان نالہ یک خمخانہ مئے
وہی بزم شوق ہے وہی شاعر ہے اور وہی اس کا پیام ہے اپنے پیغام کی وضاحت کے لیے ڈاکٹر صاحب نے جو تمثیلات قائم کی ہیں ان میں سے ایک اہم تمثیل شاہین کی ہے جسے کبھی شاہین کہتے ہیں تو کبھی باز اور کبھی عقاب شاہین کا تصور بھی اقبال کے تصور خودی کے تابع ہے اقبال کے نزدیک شاہین میں بھی وہ خصوصیات موجود ہیں جو کمال مرد مومن میں دیکھنا چاہتے ہیں اسی لیے اقبال اردو ادب کے پسندیدہ پرندے بلبل پر شاہین کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ بلبل و قمری صرف جمال ہی جمال ہیں جب کہ اقبال جمال سے بھی زیادہ جلال کو پسند کرتے ہیں وہ جلال میں بھی قوت و حسن تلاش کرتے ہیں
کر بلبل و طاوس کی تلقین سے توبہ
بلبل فقط اواز ہے طاوس فقط رنگ
شاہین اقبال کو اپنی بلند پرواز تیز نظر جفا کاش غیرت بلند فطرت اور سخت کوشش کی وجہ سے پسند کرتے ہیں اور یہی وہ خصوصیات ہیں جو اقبال مرد کامل
میں دیکھنے کے خواہاں ہیں
کیا میں نے اس خاکداں سے کنارہ
یہاں رزق کا نام ہے اب و دانہ
بیاں باں کی خلوت خوش اتی ہے مجھ کو
ازل سے فطرت میری رہبانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں اشیانہ
ڈاکٹر یوسف حسین خان لکھتے ہیں کہ
اقبال کے وجدان اور جذبات شعری کو جو چیز سب سے زیادہ متحرک کرتی ہے وہ مظہر قوت ہے
یہی وجہ ہے کہ بلبل اور قمری کی تشبیہوں کی بجائے بات اور شاہین کو ترجیح دیتا ہے ایسی تشبیہں اردو شعری میں بالکل موجود نہیں تھی
ڈاکٹر صاحب نے فارسی سے اخذ کر کے اردو شاعری میں ان کا اضافہ کیا اقبال جو طاقت و قوت کو پسند کرتا ہے کچھ لوگ اسی بات پر اقبال کی مخالفت کرتے ہیں
مجنوں گور کھپوری اقبال پر دراز کرتے ہوئے کہتے ہیں
جس طرح اقبال کے تصور میں حجاز نے اپنا تسلط جما لیا تھا اسی طرح عقاب شاہین شہباز اور چیتے جیسے سفاک جانوروں نے بھی ان کی فکر و بصریت میں ایک مرکزی حیثیت اختیار کر لی تھی وہ انسان میں بھی علم مخصوص مرد مومن میں انہیں پار کھانے والے جانوروں کی فضیلت دیکھنا چاہتے ہیں سنیں یہ کتنی لذت لے کر کہتے ہیں
جو کبوتر پر جھپٹنے میں مزہ ہے اے پسر
وہ مزہ شاید کبوتر کے لہو میں بھی نہیں
ذرا ہم اپ تھوڑی دیر کے لیے سوچیں کہ اگر یہ غار تگرانہ ملان عام ہو جائے اور زیر دستوں پر یوں ہی جھپٹنےکا معاشرتی اور قانونی حق دے دیا جائے تو ہماری دنیا کا کیا حال ہوگا اور رہنے کے لیے ایک ایسی جگہ ہوگی اقبال نے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر تہذیب انسانی کی اخری تحلیل یہی ہوتی تو اس کو ہلا کو کہ دور سے اگے بڑھنے کی ضرورت نہیں تھی اقبال کے مخالفین کا یہ نقطہ نظر اقبال سے نا واقفیت کا نتیجہ ہے
اقبال نے بہادر انسانوں کا نظریہ پیش کیا ہے نہ کہ ظالموں کا اقبال شاہین کی ان صفات کو اپنانے کی بات کرتے ہیں جو بہادری غیرت اور بلند پروازی کے زمرے میں اتی ہیں
مولانا عبدالسلام ندوی اقبال کامل میں اسی بات کی وضاحت کرتے
ڈاکٹر صاحب نے جانوروں کی صرف ایک صفت یعنی
قوت کولیا ہے اور قوت حاصل کرنے کی تعلیم خود اسلام نے دی ہے ترجمہ طاقتور مسلمان کمزور مسلمان سے خدا کے نزدیک زیادہ بہتر اور زیادہ محبوب ہے اقبال اس طرح اس کی وضاحت ظفر احمد صدیقی کے نام ایک خط میں کرتے ہیں شاہین کی تشبیہ محض شاعرانہ تشبیہ ہے اس جانور میں اسلامی فکر کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں
خوددار اور غیرت مند ہے کہ اور کسی کے ہاتھ کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا
بے تعلق ہے کہ اشیانہ نہیں بناتا
بلند پرواز ہے
تیز نگاہ ہے
خلوت پسند ہے
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے اور شاہین کا جہاں اور
اقبال کا سارا فالسفہ ان کے تصور خود ہی کے گرد گھومتا ہے اقبال شاہین کو اس لیے پسند کرتے ہیں کہ وہ بلند پرواز ہے اس لیے بہتر ہے کہ وہ کم نگاہ پرندوں کی صحبت سے احتراز کرے
پروفیسر عزیز احمد اقبال نئ تشکیل میں لکھتے ہیں
اقبال نے شاہین کی فطرت کو بڑے خاص معنوں میں رہبانہ کہا ہے حرکت صرف معاشرے کے اندر ممکن ہے اس سے الگ ہو کے رہبانیت سکون پرستی بن جاتی ہے
جو انسانی ترقی کے راستے میں ایک بے کار سی چیز ہے اسی لیے کمال نے اس کی صراحت کر دی ہے کہ فکر و رہبانیت میں بڑا فرق ہے
غیرت ہے طریقت حقیقی
غیرت سے ہے فکر تمامی
اے جان پدر نہیں ہے ممکن
شاہین سے تدرد کی غلامی
شاہین کی مانند مرد درویش بھی اپنے لیے سرمایہ جمع کرنا ہے اور بود و باش کی شان و شوکت کو اپنی درویشی کے خلاف سمجھتا ہے اقبال کا شاہین کسر سلطانی کے گنبد پر نہیں بلکہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر بسیرا کرتا ہے
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر اتی ہے ان کو اپنی منزل اسمانوں میں
یہ سبق اقبال نوجوانوں کو دینا چاہتے ہیں کہ عزم و ہمت ہی سے دنیا میں عزت اور ناموری حاصل ہوتی ہے
پروفیسر عزیز احمد اقبال نئ تشکیل میں لکھتے ہیں
شاہین کی قوت اپنی بقا کے لیے کمزور قسم کے حیوانات سے متصادم ہو جاتی ہے یہ ایک حیاتی اور حوانی صورتحال ہے جس کا انسانی اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں لیکن شاہین میں قوت کا رجحان بعض ایسی جبلی خوبیوں کی طرف پلٹ جاتا ہے جو اس میں اور اعلی ترین انسانوں میں قدر مشترک بن جاتی ہیں مثلا غیرت ازادی بلند پروازی تیز نگاہی شاہین ان خوبیوں کی طرف جبلت کے راستے سے پہنچا ہے اس لیے اس میں یہ ناقص ہیں اور ان کے برعکس حیوانی زیادتی کے درمیانی لکیر بہت مہم اور غیر واضح ہے لیکن جو جارہانہ رحجان شاہین کی منزل پر حیاتی ارتقام نظر اتا ہے اس کو انسانی تسخیر فطرت کے لیے استعمال کر سکتا ہے شاہین کا شکار کمزور پرندوں لیکن انسانوں کا شکار انسان کو نہیں ہونا چاہیے جسے اقبال نے ترویح یا فقیر کہا ہے
حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں میں
کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بتاتا نہیں اشیانہ
اس فکر سے ادمی میں پیدا
اللہ کی شان بے نیازی
کنجشک او حمام کے لیے موت
ہے اس کا مقام شاہبازی
اقبال شاہین کی بلند پروازی کو پسند کرتے ہیں کہ یہ نئے امکانات کے دروازے وا کر دیتی ہے اور کائنات کے ناےسے نائے گوشے اس کے سامنے لاتی ہے اقبال یہ وصف مرتے مومن میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اسے تسخیر کائنات کی ترغیب دیتے ہیں
تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے اسماں اور بھی ہیں
شاہین کی تیزی نگاہ اقبال کے نزدیک بصریت کی علامت ہے شاہین کی وسعت پرواز ہی اس کی وسعت نگاہ کا باس ہے اس حوالے سے شاہین کا مقابلہ کوئی اور پرندہ نہیں کر سکتا
ڈاکٹر یوسف حسین خان روح اقبال میں تحریر کرتے ہیں اقبال کے وجدان اور جذبات شعاری کو محترک کرنے والی قوت یعنی جوش حیات ہے جو اسے عالم انسانی اور عالم فطرت دونوں میں یکساں نظر اتا ہے قوت میں اسے حسن نظر اتا ہے قوت اور توانائی اظہار حسن کی ہی ایک خاص شکل ہے بشرط کہ وہ اخلاق سے بے تعلق نہ ہو اسی لیے وہ اسے فکر و بے نیازی سے وابستہ رکھتا ہے بغیر اس کے اعلی سیرت کے جوہر زہر نہیں ہو سکتے
اقبال کے ہاں قوت تو توانائی کی نوعیت ہوانی نہیں بلکہ روحانی ہے اقبال دوسرے رومانیت پسندوں کی طرح قوت حیات کا قدردان ہے لیکن اسے اس کا شدید احساس ہے کہ قوت کو حق بجانب ٹھہرا ٹھہرانے کے لیے اخلاقی نظم و ضبط کا پابند کرنا ہوگا بغیر ایسا کیے قوت زندگی کے لیے لعنت بن سکتی ہے اپنی نظم جلا لو جمال میں وہ افلاطون کی تیزی ادراک کے مقابلے میں زور حیدری کو زندگی کے لیے زیادہ اہم سمجھتا ہے
میری نظر میں یہی ہے جمال و زیبائی
کہ سربہ سجدہ ہے قوت کے سامنے افلاک
کر بلبل و توس کی تلقین سے توبہ
بلبل فقط اواز ہے طاؤس فقط رنگ
نگاہ عشق دل زندہ کی تلاش میں ہے
شکار مردہ سزا وار شاہباز نہیں
کلام اقبال میں شاہین کے استعمال کے بارے میں سید عابد علی عابد تحریر کرتے ہیں
اقبال کے کلام میں انسان کامل کے لیے شاہین مومن قلندر اور درویش کے کلمات کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں اور یہ مختلف علامتیں استعمال کرنے کا منشا یہ ہے کہ انسان کامل کی ذات میں جو صفات ہیں ان کی کیفیت و کمیت سے پڑھنے والوں کو اگاہی حاصل ہو جائے شاہین کہہ کر اقبال انسان کامل کے فکر کی طرف اشارہ کرتے ہیں ظاہر ہے کہ اس فکر سے مراد ترک دنیا نہیں بلکہ دنیاوی جاؤ جلال اور دنیاوی خوف سے بے نیاز ہو کر طلب اور جستجو کی منزل طے کرتا ہے اور اخر تسخیر کائنات کے مقام پر پہنچتا ہے شاہین کی حیثیت کے متعلق خود اقبال لکھتے ہیں شاہین کی تشبیہ محض شاعرانہ تشبیہ نہیں اس جانور میں اسلامی فکر کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں خوددار اور غیرت مند ہے اور کے ہاتھ کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا بے تعلق ہے کہ اشیانہ نہیں بناتا بلند پرواز ہے خلوت پسند ہے تیز نگاہ ہے اب معلوم ہو گیا ہے کہ اقبال اسلامی فکر کے کیا معنی ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں خودداری اور غیرت مندی تو تمام زندہ قوموں کا خاصہ ہے البتہ یہ جو بات ہے کہ شاہین اشیانہ نہیں بناتا اور بے تعلق ہے یہ ایک ایسی رمز ہے جس کا تعلق خاص امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ مغرب کی روش کے برخلاف اسلام وطن کو نہیں بلکہ مذہب کو اتحاد و ملت کا وسیلہ اور ذریعہ قرار دیتا ہے ظاہر ہے کہ بلند پروازی فکر کو لازم ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ادمی علائق دنیاوی سے اس معنی میں بے تعلق ہو جائے کہ نہ تو اس کا خوف رہے اور نہ دنیاوی لذتوں کے اکتساب کی ہوس تو اس کی اقدار بلند ہو جائیں گی اور وہ اپنے نصب العین اپنے سامنے رکھے گا جن تک پہنچنا دراصل فریضہ انسانی سے عبادت ہوگا خلوت پسندی صوفیوں کی اصطلاحی خلوت پسندی نہیں اس سے یہ مراد نہیں کہ انسان دنیا ہی سے کٹ جائے بلکہ یہ مراد ہے کہ دنیا سے بے نیاز ہو کر غور و فکر کرے ظاہر ہے کہ تدبر خلوت کے بغیر ممکن نہیں باقی رہی تیز نگاہی تو یہ بصریت کی رزمز ہیں اقبال نوجوانوں میں انقلابی روح پیدا کر کے ان میں شاہین ک صفات پیدا کرنا چاہتے ہیں کمزور دل اور بزدل افراد کو کبوتر اور کرگس کہہ کر غیرت دلاتے ہیں ان کی کمزوری کو ان کا زوال کا سبب خیال کرتے ہیں
وہ قوم کے ہر فرد کو جرات مند بہادر اور دلیر دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ دشواریوں کا مقابلہ کر سکیں وہ چڑیوں کو شاہین اور معمولے کو شہباز سے لڑانا چاہتے ہیں
یہ مانا اصل شاہینی ہے تیری
تیری انکھوں میں بے باکی نہیں ہے
تندی بعد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
پروفیسر عزیز احمد اقبال نئی تشکیل میں لکھتے ہیں
اقبال مسلمانوں میں سخت کوشی بہادری
دلیری اور غیرت ایمانی کے ساتھ ساتھ تجسس بھی پیدا کرنا چاہتے ہیں جس سے وہ اپنے دین اور اقتدار سے اگاہ ہو سکیں اور فرنگی علم نہیں واپس اس کی نگاح کو خیرہ نہ کر سکیں
چیتے کا جگر چاہیے شاہین کا تجسس
جی سکتے ہیں بے روشنی دانش فرنگ
خدایا ارزو میری یہی ہے
میرا نور بصریت عام کر دے
اقبال کا شاہین ایم اے اردو کی تیاری کے لیے پڑھیں اور دوسروں کے ساتھ شیئر کریں شکریہ
یہ پیپر میں انے والا سوال ہے
0 Comments
Thanks for comment